ابنا: اس موقع پر پنجاب کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ خدا کے عنایت الٰہی سے ایم ڈبلیو ایم کا تنظیمی ڈھانچہ پورے ملک میں مرکز سے دیہات کی سطح تک قائم ہو چکا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے عہدیداران پاکستانی معاشرے کو اسلامی فلاحی معاشرہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ اسلام دشمن قوتیں پاکستان میں تشیع کی بیداری سے خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے کہا اب حکومت وقت سے مطالبہ کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ شیعہ قوم پاکستان کے آئین اور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ہمیں کوئی راست اقدام اٹھانے کیلئے مجبور نہ کیا جائے۔ بین الاقوامی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحرین ، سعودی عرب اوربرما میں مسلمانوں کی نسل کشی اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کو نظر نہیں آتی۔ لیکن شام کے لئے آئے دن راگ آلاپتے رہتے ہیں۔کراچی سے خیبر تک ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ حکومت اور امن دشمن شرپسند عناصر کا معصوم شہریوں کے خلاف گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔ جس پر پاکستانی عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ پولیس، ایف سی ، رینجرز سمیت خفیہ ادارے دہشت گردوںکو گرفتا ر کر کے کیفر کردار تک پہنچانے میں کیوں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے وفد وفد میں سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری ، سید اسد عباس نقوی ، برادر ذوالفقار اسدی ، برادر رائے ناصر اور برادر مسرت کاظمی شریک تھے جبکہ مرکز ی شوریٰ عالی کے رکن علامہ اقبال بہشتی کو خصوصی طور پر ملاقات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
.......
/169